Monday, 30 May 2011

خزینہء نبوت

View MyPage !



Follow my Articles
خزینہ نبوت
(Ata Muhammed Tabussum, karachi)

خزینہ نبوت حضور اکرم ﷺ کی احادیث کا مختصر مجموعہ ہے۔ جس میں احادیث کی منظوم ترجمانی کی گئی ہے۔ ربیع الاول کے ماہ مبارک کی مناسبت سے یہ بہت متبرک تحفہ ہے۔ جو اسلامک ریسرچ اکیڈمی نے شائع کیا ہے۔احادیث کی منظوم ترجمانی پروفیسر سید ارشد جمیل نے کی ہے۔پروفیسر سید ارشد جمیل تدریس و تعلیم کے شعبہ سے متعلق ہیں۔ اس کتاب کے بارے میں وہ لکھتے ہیں کہ ،،محسن انسانیت کے اقوال و افکار کو سخن وری کا موضوع بنانا مجھ جیسے سائنس کے استاد کے لئے خاصا مشکل کام تھا جو بہرحال اللہ کے کرم سے ہوگیا۔ ارشد جمیل صاحب نے جو مختصر احادیث منتخب کی ہیں۔ وہ حافظ فضل الرحمنشاہ صاحب نقشبندی مجددی کی کتاب،، جواہر نبوت،، سے لی گئی ہیں۔ پروفیسر عنایت علی خان نے اس منظوم ترجمانی پر نظر ثانی کی ہے۔ کتاب عمدہ گیٹ اپ اور خوبصورت سرورق کے ساتھ شائع کی گئی ہے۔ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ (بخاری) اس کو اس طرح شعری پیکر میں ڈھالا ہے۔ اعمال کا مدار ہے نیت کا التزام۔ نیت میں ہو فتور تو اعمال سب حرام یا پھر یہ حدیث تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لئے بہتر ہے۔ اس کو شعر میں یوں بیاں کیا گیا ہے۔ تم میں سے بہترین ہے جو انسان خلیق ہو۔ جو اپنے اہل خانہ پر نرم وشفیق ہو، میانہ روی سب سے بہتر ہے(بہیقی) کو انھوں نے یوں شعر میں بیان کیا ہے فرمان مصطفٰے صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم یہ بڑا دلنشین ہے۔اوسط عمل طریق عمل بہترین ہے۔ کتاب کی قیمت سو روپے ہے۔ یہ کتاب نوجوانوں اور شعری ذوق رکھنے والوں کے لئے ایک بہترین تحفہ ہے۔ کتاب ڈی ۔35 بلاک 5 فیڈرل بی ایریا سے منگوائی جاسکتی ہے۔


http://www.hamariweb.com/articles/article.aspx?id=11627&type=text

_____________________________________________________________________

سرورق > اداریہ

اداریہ


2011-01-30

کتب و رسائل

کتب و رسائل نعیم صدیقی
کتاب : خزینہ نبوت(احادیث کی منظوم ترجمانی)
شاعر : پروفیسر سید ارشد جمیل صفحات : ۰۱۱ قیمت:۰۰۱ روپی ناشر : ادارہ ¿ معارف اسلامی، ڈی۔۵۳، بلاک۵، فیڈرل بی ایریا، کراچی۔ زیر نظر کتاب پروفیسر سید ارشد جمیل صاحب کی ایک ایسی شعری کوشش ہے جس کی جس قدر بھی تحسین کی جائے کم ہے۔ اس کتاب میں ۰۱۳ احادیث کی منظوم ترجمانی کی گئی ہے۔ ہم اس تعارفی تبصرے میں اپنی کسی رائے کے بجائے خود پر پروفیسر سید ارشد جمیل صاحب کا اس کتاب کے بارے میں بیان جو انہوں نے ”حکایت دل“ کے عنوان سے کتاب کی ابتدا میں شائع کیا ہے اس کا ایک اقتباس درج کریں گے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ”محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کے افکار و اقوال کو سخن وری کا موضوع بنانا مجھ جیسے سائنس کے استاد کے لیے خاصا مشکل کام تھا جو بہرحال اللہ کے کرم سے ہوگیا۔ مشکل آسان اس لیے ہوگئی کہ احادیث کے انتخاب کے سلسلے میں میری نظر حافظ فضل الرحمن شاہ صاحب نقشبندی مجددیؒ خلف الرشید حضرت مولانا سید زوار حسین شاہ نقشبندی مجددیؒ کی کتاب ”جواہر نبوت“ پر موصوف کی اجازت سے فکر سخن کا آغاز ہوا۔ برادر نسبتی حافظ فضل الرحمن صاحب نے ازراہ کرم اجازت مرحمت فرمائی جس کے لیے ان کا تہہ دل سے ممنون ہوں۔ جب کام مکمل ہوگیا تو ازراہ عنایت جناب پروفیسر عنایت علی خان صاحب نے اس کتاب کا ایک ایک لفظ پڑھ کر مناسب مشوروں سے نوازا جس کے لیے ان کے حق میں دعاگو ہوں اور تہہ دل سے ممنون ہوں۔ یہ منظوم احادیث رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم ترجمہ کی صورت میں نہیں بلکہ ترجمانی کی شکل میں ہیں۔ کہیں شعری ضرورت کے تحت مناسب و مماثل مفہوم کا مصرعہ اضافہ ہے۔ اگرچہ یہ بھی کوشش کی گئی ہے کہ فکر الہامی سے ہٹا ہوا نہ ہو اور منشائے رسالت مآب سے بہت قریب ہو۔ یہ سب کچھ اللہ کے حضور پیشی کے وقت رحم و کرم کی نظر اور ندامت سے بچنے کی ادنیٰ سی کوشش ہے“۔ آگے چل کر لکھتے ہیں کہ ”کتاب کی طباعت کے سلسلے میں جناب سید شاہد ہاشمی صاحب اسلامک ریسرچ اکیڈمی کراچی سے اشاعت قبول فرما کر مجھے ایک عظیم ذمہ داری سے سبکدوش ہونے کا موقع عنایت کیا۔ میں موضوف کا بے حد ممنون ہوں“۔ کتاب پیپر بیک پر رنگین سرورق کے ساتھ شائع کی گئی ہے۔ ........٭٭٭........
http://www.jasarat.com/graphic/smag_detail.php?smagdate=30-01-2011&newsid=17.gif

Saturday, 28 May 2011

تضمین بر غزل حضرت اعجاز مالوی

حافظ حبیب الرحمٰن یوسفی[نوابشاہ]
زیست کو محرومِ عشرت کر دیا ہر نفس کو وقفِ کلفت کر دیا
اہتما مِ ضبطِ فرصت کر دیا جب سے دل وقفِ محبت کر دیا
راحتوں کو گھر سے رخصت کر دیا
چھاگئی دنیا میں ہر سو تیرگی وقت کی رفتار جیسے رُک گئی
ذرہ ذرہ سے صدا آنے لگی قتل ہو بے وجہ مجھ سا آدمی
تونے خونِ آ دمیت کر دیا
مضحکہ خیزی کا عالم الحذر ورطہ حیرت میں ڈوبی ہر نظر
دل شکستہ چشم نم چھلنی جگر میرے رونے پر ہنسے ہیں اسقدر
دو گھڑی رونا مُصیبت کر دیا
پہلے تو ایسا نہ تھا تیرا مزاج سب دلو ں پر تھا فقط تیرا ہی راج
کیا تجھے گہنا گیا ظالم سما ج تیرے عذرِ پاک دامانی نے آج
عشق کو ہی بے ضرورت کر دیا
بارہا سب نے سُنا اس ساز کو کوئی پہچانا نہ اِس آواز کو
ہم نے حافظ پالیا اِس راز کو عاشقی نے کم سے کم اعجاز کو
خوگرِ رنج و مصیبت کر دیا

Friday, 27 May 2011

غزل

پروفیسر سید ارشد جمیل
قطرہ نہ ایک خون کا آنکھوں سے کل بہا
یہ ہے زوالِ غیرت و عزت کی انتہا
پروانہ طوفِ شمع کے دوران جل گیا
کیا ذوقِ وصلِ نور کبھی کم بھی ہوسکا
اک شخص جس کے ابرو و رخسار نے مجھے
دائم سکوں بذریعۂ درسِ فنا دیا
میں دل ہی دل میں اس کی تمنا کا معترف
اس نے طبل پہ اعدا سے اعلانِ جنگ کیا
چالیں تمام شیریں کے حق میں نہیں گئیں
فرہاد کی فتح ہے یا خسرو کا دبدبہ
اک قیس نے محبتِ لیلیٰ میں جان دی
جذبہ وہی ہے آج بھی محفل میں کل جو تھا
مجھ کو یقیں ہے آئے گا فرہاد بام پر
گویا کرے گا کوہکن پھر کل سے ابتدا
چلتی رہے گی رزمِ جنوں شاہ سے جمیلؔ
پاتے رہیں گے قیس ہزاروں یہاں سزا

Saturday, 26 March 2011

نجم الدین اربکان سابق وزیر اعظم ترکی کی یاد میں لکھی گئی نظم۔

Tuesday, 9 November 2010

نفاذ ِ اردو ایک خواب پروفیسر سید ارشد جمیل

تسلیم کر لیں کاش ہم اردو کی احتیاج

آئے ستارہ اپنا بھی بالائے بام آج

صوبوں کے درمیان ہے اردو سے رابطہ

حکام میں نہیں مگر اردو کا تذکرہ

اکثر غریب عوام نے اپنا یا ہے اِسے

حکام ِ با وقار نے ٹھکرایا ہے جسے

اردو چمن میں اپنے ہے نخچیر اور صید

آزاد مملکت میں ہے قومی زبان کی قید

قومی زباں بے حیثیت ہے ہر مقام پر

دفتر ہوں حاکموں کے یا منصف کے بام و در

بازار میں گھر وں میں دفاتر میں ہر جگہ

کم ہوگا نام تختی پہ اردو میں ترجمہ

آزاد ہو گئے ہیں مگر ہیں ابھی غلام

گردن میں اسپِ شرق کے ہے غرب کی لگام

اردو زباں کے صدیوں سے ہیں دشمنِ حیات

افرنگی و ہنودی و ابلیسی طلسمات

اللہ کرے کہ اب تو ہو احساس یہ ہمیں

افکار کی غلامی سے اب جلد ہم بچیں

دانش کدوں کے اردو سے گر پُر ایاغ ہوں

پھر مستفید قوم کے اعلٰی دماغ ہوں

نکتہ یہ ہم پہ کاش اب ہوجائے آشکار

قومی زباں کے ذریعہ ہے ملت کا اعتبار

تحقیق کی بساط کے شاطر نہیں ہیں کیوں

صدیوں سے عقل و ہوش پہ چھا یا جو ہے فسوں

اربابِ حل و عقد سے بیگانے ہیں عوام

جنکی زبا ں ہے اجنبی اور اجنبی نظام

اک بُعد ِ شرق و غرب ہے دونوں کے درمیاں

حائل ہے درمیان میں افرنگ کی زباں

حاکم کبھی سمجھ نہ سکے بے کسوں کی بات

آفات سے ملی نہ اِنہیں آج تک نجات

تبدیل رہنمائوں کا ہو طرزِ اقتدار

مبنی خلوص پر ہو سیاست کا ہر شعار

قومی زباں کا مرتبہ ایواں میں ہو بحال

تاکہ ہو جلد خاتمۂ نکبت و زوال

ہو تیشہ زن کی زد میں غلامی کا ہر زجاج

کٹ جائے طوقِ گردنِ اردو ہے یہ علاج

ارشد افق سے پھوٹے کوئی نور کی کرن

اللہ کرے ہو روشن اسی نو ر سے چمن

Thursday, 21 October 2010

قطعہ

قطعہ

حاکم کو نظر کیوں نہیں آتا وہ یہیں ہے

قاتل میرا اس شہر سے باہر کا نہیں ہے

سفاک ہے جلاد ہے بے رحم ہے قاتل

ظا ہر میں بڑا پارسا اور خندہ جبیں ہے۔

پروفیسر سید ارشد جمیل

Friday, 4 June 2010

فریڈم فلوٹیلا پر اسرائیلی دہشت گردی—پروفیسر سید ارشدجمیل

عالمی طاقت کے بل بوتے پر اسرائیل نے

کردیا حملہ رضاکاروں کے اک سرخیل پر

مار ڈالے چند انساں بے خطا و بے قصور

کیا غضب ہوتا فلوٹیلا غزہ جاتا اگر

ظلم و دہشت فطرتِ صہونیت کا ہے خمیر

اس کی دہشت سے نہیں محفوظ کوئی بحر و بر

کارواں اطفا لِ محصوریں کو دیتا کچھ دوائیں

امن و آزادی کا تھا بے لوث وہ پیغامبر

اہلِ غزہ پر ہے بندش ہر ضروری چیز کی

جانے دیتا کیسے ہمدردوں کو مظلوموں کے گھر

آج اسرائیل نے کی ہے ستم کی انتہا

کل یہ خود کھائے گا ہر اک ظلم کا کڑوا ثمر

کب تلک زندہ رہے لے پالکوں کے سر پرست

آخر اک دن بے اماں اور ہوگا رُسوا در بدر

امن و آزادی کی کشتی میں شامل تھے جمیل

میرے پیارے نوجواں و دل رُبا لختِ جگر