Tuesday, 22 May 2012
غزل
Sunday, 15 April 2012
اسلامیہ کالج سکھر
دلربا ماحول تھا اسلامیہ کالج کا خوب
یاد آئے گر کسی شب دل کا اُٹھ جائے قرار
صولت و فاروق و رومانی منیر و امتیاز
گلشنِ کالج میں تھی علمی عنادل سے بہار
--------------------------------------
ہیں معلم خوب صولت آدمی بھی خوب ہیں
جوبھی ملتا یہ سمجھتا چاہتے ہیں بس مجھے
حضرت ِ صولت نے کالج میں محبت کاشت کی
وہ مجھے تو اک بڑے بھائی کی صورت میں ملے۔
------------------------------------------
اظہر ومسعود و جیلانی امیں مشتاق سے
دوستی اور ربطِ الفت قائم و دائم رہا
چوہدری نے پیار میں گھر میں رکھا میں خوش ہوا
مشورے سے سعی اور منظور کے پھر گھر چلا
-----------------------------------------------
طالب علموں میں لگن تھی اور پڑھتے تھے نصاب
صَرف صحت مند سرگرمی میں ہوتا تھا شباب
یادِ ماضی کو کوئی کہتا رہے ارشدؔ عذاب
خوبصورت یاد ہے میرے نوشتۂ میں صواب
Sunday, 1 January 2012
پرندہ پر تولتا
پرندہ
(پر تولتا)
پروفیسر سید ارشد جمیلؔ
وہ سمجھتا ہے کہ ہو گا زندہَ جاوید یوں
یہ فتورِ نفس ہے یا پھر قیادت کا جنوں
اسکی خواہش ہے کریں رہبر سب اسکا احترام
Saturday, 29 October 2011
عزل----پروفیسر سید ارشد جمیل
ہجر کی ہر شب لمحہ لمحہ جان کنی میں ڈ ھلتی رہی
آج قویٰ شکنی ہے زیادہ امید کا دامن چھوٹ نہ جاۓ
تپتے ہوے صحرا پر برسوں روح جھلستی چلتی رہی
ہم نے سنا تھا دیدہ وروں نور کی اک ننہی سی کرن
گود میں شب کی خاموشی سوتی رہی اور پلتی رہی
جذبہ اہل جنوں کا بڑھ کرسیل بلا جب بن نہ سکا
رنگت قصر ستم کی خوں سے خوب نکھر کے بد لتی رہی
ار شد ان محلوں کے اک دن بپ جیب و داماں انساں
مالک ہونگے ان کےدلوں میں خواہش خوب مچلتی رہی
غزل
مجروح سب ہوےِ ہیں ہوں بادہ کش کہ ناصح۔۔ معصوم دہن و لب میں پوشیدہ اک زباں سے
غمگین ہو رہے ہیں بد حال ہو رہے ہیں پر کار اور سادہ دلکش حسیں بیاں سے
ہیں کشتگان رہبر یا کشتگان رہزن۔۔۔ آہوں کا اک دھواں سا اٹھتا ہے کارواں سے
ہر شاخ پر بنایا گلشن میں آشیانہ۔۔ محروم پھر بھی ہیں ہم گلشن میں آشیاں سے
اس خاک پر جگرکا چھڑکا ہے لوہو برسوں۔۔ کم ہو نہ پاےء لیکن یہ خار گلستاں سے
ہے میر کے سخن کا انداز ہی نرالا ۔۔ ارشد جمیل اسکو جانو عزیز جاں سے
پروفیسر سید ارشد جمیل
موقف اپنا مثالی---پروفیسر سید ارشد جمیل
آ نہ سکا ہے بس میں انکے وزیر ستان شمالی
اپنی ہار چھپانےکو ہی اس نے لگائے ہیں الزام
وہ کہتا ہے واشنگٹن کو ہوئی ہے جیت مثالی
کیا دنیا کی آنکھوں میں جھونکے گا ایسے دھول
اس پہ یقین کرینگے اس کے چند ہالی موالی
ہم کہتے تھے یہ جنگ اپنے ہی لوگوں کے ہے خلاف
اپنوں نے اپنوں کو رگیدا گھر میں آگ لگا لی
اس دنیا کے حاکم کو ہو کیسے شکست گوارا
کیونکر گیت نہ گائیں اسکے بے تو قیر سوالی
اب تو کیانی نے بھی کل شوریٰ میں اعلان کیا
جنگ نہیں اب ہوگی وہاں پر ہم نے توپ ہٹالی
ہر گوشے سے اہل وطن نے ارشد کر دی ہے توثیق
وہ آئیں تو صا ف سنا دیں موقف اپنا مثالی
نجات
اٹھا طاقت بنا کر ان کے آگے نو جوانوں کو
نحوست جلد گلشن سے یہ ٹل جا ےء خداوندا
بچا لے دشمنان دیں سے امت کے خزانوں کو
نہیں ہے حوصلہ انمیں کہ ٹکراءیں یہ باطل سے
بچیں گے نا خدا بزدل کہاں تک تیغ قاتل سے
سفینہ زد میں طوفا نوں کی ہے اور ناخدا غاءیب
کیا کرتے ہیں نظارہ تماشہ بین سا حل سے
مرے گلشن کو شیطانوں کے آقا نے لیا زد پر
وہ کرنا چاہتاہے ختم پاکستان کا جوہر
صفوں میں افسروں کی حیف دشمن دیں کے پنہاں ہیں
کیا جائے گا دوہرا آپریشن اندر اور باہر
پروفیسر سید ارشد جمیل


