Thursday, 4 October 2012
احتجاج
عاشقان
ِ مصطفٰیؐ لاکھوں کریں گے احتجاج
سب
مسلمانوں کی فکرِ دیں کا ہو گا امتزاج
ایک
انبوہ ِ کثیر اور ایک سیلاب ِ عظیم
گنبدِ
قائد پہ رکھے گا نبیؐ کے دیں کی لاج
پروفیسر
سید ارشدؔ جمیل
03218731547
Thursday, 13 September 2012
حجاب
پردہ خدا کے حکم سےعورت پہ فرض ہے
یہ اک شعار حرمتِ دینِ مبین ہے
ملت پہ فرض ہے کہ کریں عورتیں حجاب
رب کی رضا بطاعت صدق الا مین ہے
پروفیسر سید ارشد جمیل
Saturday, 1 September 2012
گُلشن بنا ہے بے ثمر اِک ارضِ خار دار
تشکیل کرتی
تھی جسے اپنے لیے بہار
وہ گُل ہوا
ہے تیغِ ستم
خیز کا شکار
گُلشن پہ
چڑھابیٹھا ہے ظالم خزاں کا بھوت
گُلشن بنا ہے بے ثمر
اِک ارضِ خار دار
پروفیسر سید
ارشدؔ جمیل
Wednesday, 25 July 2012
انسا نیت کے درد مند چُپ ہوئے ہیں سب۔ پروفیسر سید ارشدؔ جمیل
انسا نیت کے درد مند چُپ ہوئے ہیں سب۔ پروفیسر سید ارشدؔ
جمیل
برما میں اہل ِ حق پہ چلی ظالموں کی تیغ
کوئی نہیں جو روک سکے قتلِ بے دریغ
او آئی سی کے کان پہ رینگی نہ جوں تلک
مسلم کے سینے میں نہ چلی حیف اِک چبک
معصوم بچے ہوتے رہے ذبح روز و شب
انسانیت کے درد مند چُپ ہوئے ہیں سب
تیمور و دا رفور میں کل مستعد جو تھے
مظلوم برمیوں کے لئے کیوں نہیں اُٹھے
ہے دوغلی یہ حکمتِ عملی جناب کی
آئے گی جلد زد میں یو این او عتاب کی
ارشد ؔاُفق سے ابھری ہے اسلام کی کرن
چھٹ جائے گی یقین
ہے ظُلمات ِصد زمن
Saturday, 9 June 2012
وقت کی پرواز
وقت کی پرواز
قیمتی وقت میں سےدو لمحے
زخمِ دل کے رفو میں بیت گئے
ہائے صبر ورضا کے دو لمحے
بے ثمر گفتگو میں بیت گئے
پروفیسر سید ارشد جمیلؔ
Tuesday, 22 May 2012
غزل
تکبر
سے مٹے گی رسمِ الفت تم نہ سمجھو گے
تصنع
سے نہیں ہوتی محبت تم نہ سمجھو گے
تعصب
کو نہ بڑھکائو یہ وہ آتش ہے نادانوں
کہ
جل کر راکھ ہو گی جس سے خلقت تم نہ سمجھو گے
نہ
کیجے تلخ باتیں یہ دلآزاری نہیں اچھی
کہ
ٹوٹے دل بھی بن جاتے ہیں آفت تم نہ سمجھو گے
بجائے
پرسشِ غم اور کرتے ہو نمک پاشی
ہرا
ہوتا ہے یوں زخمِ عداوت تم نہ سمجھو گے
ضمیر
ِ سخت جاں دولت کے بدلے بک نہیں سکتا
کرے
گا تنگ آکر یہ بغاوت تم نہ سمجھو گے
حفاظت
کر نہیں سکتے ہو تم نو خیز غنچوں کی
ہر
اِک چہرے پہ ہوگی یاس و حسرت تم نہ سمجھو گے
درندے
پالتے ہوں کیوں زمیں کی گود میں ظالم
بڑھے
گی اور چاروں سمت وحشت تم نہ سمجھو گے
بنے
گا خون مظلوں کا اک دن سیلِ طوفانی
تشدد
سے بڑھے اور نفرت تم نہ سمجھو گے
مدد
سے بے ضمیروں کی سجا تختِ ستم کب تک
قیامت
تک نہیں رہتی حکومت تم نہ سمجھو گے
ہے تعظیم ِ عدالت ہر بشر پر لازمی ارشد ؔ
نہیں تسلیم کیوں حکمِ عدالت تم نہ سمجھو گے
پروفیسر سید ارشد جمیل
03218731547
sarshadjamil@yahoo.com
Sunday, 15 April 2012
اسلامیہ کالج سکھر
دلربا ماحول تھا اسلامیہ کالج کا خوب
یاد آئے گر کسی شب دل کا اُٹھ جائے قرار
صولت و فاروق و رومانی منیر و امتیاز
گلشنِ کالج میں تھی علمی عنادل سے بہار
--------------------------------------
ہیں معلم خوب صولت آدمی بھی خوب ہیں
جوبھی ملتا یہ سمجھتا چاہتے ہیں بس مجھے
حضرت ِ صولت نے کالج میں محبت کاشت کی
وہ مجھے تو اک بڑے بھائی کی صورت میں ملے۔
------------------------------------------
اظہر ومسعود و جیلانی امیں مشتاق سے
دوستی اور ربطِ الفت قائم و دائم رہا
چوہدری نے پیار میں گھر میں رکھا میں خوش ہوا
مشورے سے سعی اور منظور کے پھر گھر چلا
-----------------------------------------------
طالب علموں میں لگن تھی اور پڑھتے تھے نصاب
صَرف صحت مند سرگرمی میں ہوتا تھا شباب
یادِ ماضی کو کوئی کہتا رہے ارشدؔ عذاب
خوبصورت یاد ہے میرے نوشتۂ میں صواب
Subscribe to:
Posts (Atom)


