تصویری تصوراتی اور خاکہ جاتی ذرائع مطالعہ اور تدریس کے لئے کافی موثر ذرائع شمار ہوتے ہیں لیکن حقیقت کا ادراک اور کامل ابلاغ مشاہدہ کے بغیر انتہائی مشکل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے اپنے نبیوں کو مختلف نوعیت کے مشاہدات سے گزارا۔ حضرت نوح ؑکو ایک عظیم وسیع و عریض سیلاب کے عذاب سے بچانے اور پناہ ایزدی میں آنے کا مشاہدہ کرایا۔ حضرت ابراہیم ؑکو ایک بہت بڑے دھکتے ہوئے آگ کے الائو سے بحفا ظت نکلنے کا مشاہدہ کرایا۔ یہ اگرچہ دو طرفہ مشاہدہ تھا کہ کافر و مشرک انہیں آگ سے زندہ و سالم بحفاظت نکلتے دیکھ کر ایمان لاتے الٹا وہ اور گمراہ ہو گئے۔ اسکے علاوہ حضرت ابراہیم کے تقاضہ اطمنان (ارنی کیف تحی الموتیٰ ) کی خاطر چار پرندوں کے مختلف اجزاء چار پہاڑوں پر رکھوائے پھر انہیں بلایا تو وہ زندہ آ موجود ہوئے۔ حضرت موسٰی کو کوہ ِ طور پر تجلی دکھائی جسکی وہ تاب نہ لاسکے حضرت زکریا کو حضرت مریم کے پاس بے موسم کے پھلوں کا مشاہدہ کرایا گیا۔ حضور اکرم کو معراج پر بلایا گیا۔ جنت و دوزخ کے تمثیلی مشاہدات کرائے گئے سدرۃ المنتہٰی ( پر بے مثال الفاظ کی قید سے مُبرا ) مشاہدہ کرایا گیا۔ کسی مشاہدہ کا صحیح فہم شاہد کے مقام اور اسکی صلاحیتوں کے مکمل تعین پر نیز مشہود کے بارے میں ابتدائی معلومات سے ہے انبیا ئے کرام کے مشاہدہ اور شاہد و مشہود کے تذکرے سے متعلق میرا مقصود متشابہات کی کھوج میں پڑنا یا نعوذ باللہ جرح کرنا نہیں ہے ۔ بلکہ انسانی مطالعہ و تدریس کے عمومی ذرائع کی کمزوری اور کم فہمی واضح کرنا مقصود ہے۔ ڈگری کلاسز کی تدریس کے دوران نطام درجہ بندی نباتات ، باٹنی کے پیریڈ میں جوزف ڈالٹن ہوکر اور کیو شاہی نباتاتی باغ کا تذکرہ ہوتا تھا۔ جسکے بارے میں لارنس کی
Tuesday, 19 April 2016
شاہی نباتیاتی باغ کیو ..Royal Botanic Gardens Kew
تصویری تصوراتی اور خاکہ جاتی ذرائع مطالعہ اور تدریس کے لئے کافی موثر ذرائع شمار ہوتے ہیں لیکن حقیقت کا ادراک اور کامل ابلاغ مشاہدہ کے بغیر انتہائی مشکل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے اپنے نبیوں کو مختلف نوعیت کے مشاہدات سے گزارا۔ حضرت نوح ؑکو ایک عظیم وسیع و عریض سیلاب کے عذاب سے بچانے اور پناہ ایزدی میں آنے کا مشاہدہ کرایا۔ حضرت ابراہیم ؑکو ایک بہت بڑے دھکتے ہوئے آگ کے الائو سے بحفا ظت نکلنے کا مشاہدہ کرایا۔ یہ اگرچہ دو طرفہ مشاہدہ تھا کہ کافر و مشرک انہیں آگ سے زندہ و سالم بحفاظت نکلتے دیکھ کر ایمان لاتے الٹا وہ اور گمراہ ہو گئے۔ اسکے علاوہ حضرت ابراہیم کے تقاضہ اطمنان (ارنی کیف تحی الموتیٰ ) کی خاطر چار پرندوں کے مختلف اجزاء چار پہاڑوں پر رکھوائے پھر انہیں بلایا تو وہ زندہ آ موجود ہوئے۔ حضرت موسٰی کو کوہ ِ طور پر تجلی دکھائی جسکی وہ تاب نہ لاسکے حضرت زکریا کو حضرت مریم کے پاس بے موسم کے پھلوں کا مشاہدہ کرایا گیا۔ حضور اکرم کو معراج پر بلایا گیا۔ جنت و دوزخ کے تمثیلی مشاہدات کرائے گئے سدرۃ المنتہٰی ( پر بے مثال الفاظ کی قید سے مُبرا ) مشاہدہ کرایا گیا۔ کسی مشاہدہ کا صحیح فہم شاہد کے مقام اور اسکی صلاحیتوں کے مکمل تعین پر نیز مشہود کے بارے میں ابتدائی معلومات سے ہے انبیا ئے کرام کے مشاہدہ اور شاہد و مشہود کے تذکرے سے متعلق میرا مقصود متشابہات کی کھوج میں پڑنا یا نعوذ باللہ جرح کرنا نہیں ہے ۔ بلکہ انسانی مطالعہ و تدریس کے عمومی ذرائع کی کمزوری اور کم فہمی واضح کرنا مقصود ہے۔ ڈگری کلاسز کی تدریس کے دوران نطام درجہ بندی نباتات ، باٹنی کے پیریڈ میں جوزف ڈالٹن ہوکر اور کیو شاہی نباتاتی باغ کا تذکرہ ہوتا تھا۔ جسکے بارے میں لارنس کی
Friday, 1 March 2013
پروفیسر سید ارشدجمیل کی وفات پر مختارحسین شارق گلشنِ اقبال کراچی
Saturday, 15 December 2012
معلوم دہشت گرد
Saturday, 8 December 2012
قصرِ جن
Saturday, 6 October 2012
قطعہ
Thursday, 4 October 2012
احتجاج
Thursday, 13 September 2012
حجاب
Saturday, 1 September 2012
گُلشن بنا ہے بے ثمر اِک ارضِ خار دار
Wednesday, 25 July 2012
انسا نیت کے درد مند چُپ ہوئے ہیں سب۔ پروفیسر سید ارشدؔ جمیل
Saturday, 9 June 2012
وقت کی پرواز
Tuesday, 22 May 2012
غزل
Sunday, 15 April 2012
اسلامیہ کالج سکھر
دلربا ماحول تھا اسلامیہ کالج کا خوب
یاد آئے گر کسی شب دل کا اُٹھ جائے قرار
صولت و فاروق و رومانی منیر و امتیاز
گلشنِ کالج میں تھی علمی عنادل سے بہار
--------------------------------------
ہیں معلم خوب صولت آدمی بھی خوب ہیں
جوبھی ملتا یہ سمجھتا چاہتے ہیں بس مجھے
حضرت ِ صولت نے کالج میں محبت کاشت کی
وہ مجھے تو اک بڑے بھائی کی صورت میں ملے۔
------------------------------------------
اظہر ومسعود و جیلانی امیں مشتاق سے
دوستی اور ربطِ الفت قائم و دائم رہا
چوہدری نے پیار میں گھر میں رکھا میں خوش ہوا
مشورے سے سعی اور منظور کے پھر گھر چلا
-----------------------------------------------
طالب علموں میں لگن تھی اور پڑھتے تھے نصاب
صَرف صحت مند سرگرمی میں ہوتا تھا شباب
یادِ ماضی کو کوئی کہتا رہے ارشدؔ عذاب
خوبصورت یاد ہے میرے نوشتۂ میں صواب
Sunday, 1 January 2012
پرندہ پر تولتا
پرندہ
(پر تولتا)
پروفیسر سید ارشد جمیلؔ
وہ سمجھتا ہے کہ ہو گا زندہَ جاوید یوں
یہ فتورِ نفس ہے یا پھر قیادت کا جنوں
اسکی خواہش ہے کریں رہبر سب اسکا احترام




